یہ کرم بھی ہے رب کا کرم

یہ کرم بھی ہے رب کا کرم
ہے در مصطفیؐ اور ہم

آپؐ سے ہے امیدِ کرم
ہیں بہت ہی گناہگار ہم

روضۂ پاک سے خلد ہے
دو قدم، دو قدم، دو قدم

آسماں ہے سجائے ہوئے
میرے آقاؐ کے نقشِ قدم

آپؐ سے بڑھ کے مخلوق میں
اور کوئی نہیں محترم

جاؤں اک بار طیبہ کو میں
کم سے کم، کم سے کم، کم سے کم

زندگی چاہتے ہو اگر
سوئے طیبہ بڑھاؤ قدم

راستہ ہے وہ سرکارؐ کا
جس میں کوئی نہیں پیچ و خم

لاج میری بھی رکھ لیجیے
آپؐ رکھتے ہیں سب کا بھرم

آسماں بن گئی ہے زمیں
آگئے مصطفیؐ کے قدم

راہ طیبہ میں پڑھیے درود
ہر قدم، ہر قدم، ہر قدم

نعت اعجازؔ کیسے لکھوں
فکر معذور، عاجزؔ قلم