لاکھ میں مفلس ہوں استغنیٰ مری فطرت میں ہے

لاکھ میں مفلس ہوں استغنیٰ مری فطرت میں ہے
دولتِ حبِّ نبیؐ شامل مری دولت میں ہے

اسوۂ خیرالوریٰؐ سے منزل رفعت میں ہے
پست ورنہ آدمی اپنے قد و قامت میں ہے

آپؐ نے اخلاق سے کردار سے ثابت کیا
زندگی کا حسن صورت میں نہیں سیرت میں ہے

سلسلہ ملتا نہ ہو جس کا رسولؐ اللہ سے
ایسی صورت کون سی قرآن کی سورت میں ہے

آپؐ پر تو ختم ہیں دونوں جہاں کی عظمتیں
آپؐ سے بڑھ کر کوئی انسان کب خلقت میں ہے

آپ ہی کا حسن ہے حسنِ دو عالم کی آساس
آپ ہی کا حسن تو آئینۂ فطرت میں ہے

غزوۂ خندق سے ملتا ہے ہمیں یہ درس بھی
وہ عظیم انسان ہے مصروف جو محنت میں ہے

کیوں مدینے پر نہ ہو قربان فردوسِ بریں
رحمتِ کون و مکاں اس شہر کی قسمت میں ہے

نسبتِ محبوبؐ داور سے ہماری زندگی
سایۂ رحمت میں تھی اور سایۂ رحمت میں ہے

ہر نفس طیبہ میں ہے رحمت بداماں زندگی
مطمئن دل کس قدر دنیا کی اس جنت میں ہے

حل جو کرنا ہیں تو کر لو زندگی کے مسئلے
آج کل دیوانۂ خیرالوریٰؐ فرصت میں ہے

سیرتِ سرکارؐ کا اعجازؔ یہ ہے معجزہ
صرف قاتل ہی نہیں تلوار بھی حیرت میں ہے