خورشید مصطفیؐ نے ہیں ڈھالے قدم قدم

خورشید مصطفیؐ نے ہیں ڈھالے قدم قدم
پھیلے ہیں راستوں میں اجالے قدم قدم

سچائیوں کی راہ میں سرکارؐ آج بھی
ملتے ہیں آپ ہی حواے قدم قدم

ہم سے تو ہو رہی ہیں بہرگام لغزشیں
رحمت ہے مصطفیؐ کی سنبھالے قدم قدم

ہر لمحہ میرے لب پہ درود و سلام ہے
پڑھتا میں جا رہا ہوں مقالے قدم قدم

ہر نقشِ پا چراغ ہے طیبہ کی راہ میں
کام آ رہے ہیں پاؤں کے چھالے قدم قدم

دل بے نیازِ غم ہے دیارِ رسولؐ میں
ملتے ہیں مجھ کو چاہنے والے قدم قدم

میں جا رہا ہوں سوئے مدینے کچھ اس طرح
حیرت زدہ ہیں دیکھنے والے قدم قدم

انسانیت کی راہ کو ہموار کر دیا
کانٹے حضورؐ نے ہیں نکالے قدم قدم

طیبہ کی راہ میں نہیں احساسِ تشنگی
پیتا ہوں رحمتوں کے پیالے قدم قدم

طیبہ کی روشنی میں سفر کر رہا ہوں میں
ہیں ساتھ ساتھ نور کے ہالے قدم قدم

آواز دے رہا ہے طوافِ درِ رسولؐ
جو چاہیے لطفِ زیست اٹھالے قدم قدم

اعجازؔ وہ سفر تھا مدینے کا کیا سفر
کیا تجربے ہوئے ہیں نرالے قدم قدم