جہانِ فکر و نظر میں جو یہ اجالا ہے

جہانِ فکر و نظر میں جو یہ اجالا ہے
حضورؐ آپ کی تعلیم ہی سے پھیلا ہے

یہ راز بھی ہمیں قرآن نے بتایا ہے
حضورؐ آپ ہیں جس کے خدا بھی اس کا ہے

اسی لیے تو خدا نے کہا سراجِ منیر
چراغ ہی سے جہاں میں چراغ جلتا ہے

بڑے خلوص سے سرکار دشتِ نفرت میں
محبتوں کا شجر آپؐ نے لگایا ہے

اسے تو دھوپ قیامت کی چھو نہیں سکتی
حضورؐ آپ کی رحمت کا جس پہ سایہ ہے

کیا تھا آپ نے روشن جو نور ایماں سے
چراغ آج بھی وہ آندھیوں میں جلتا ہے

!ملی ہے دولتِ حبِّ نبیؐ جسے یارو
اسی کا دین بھی کامل اسی کی دنیا ہے

بجھا ہے اورنہ بجھے گا چراغ ذکرِ نبیؐ
یہاں تو آکے ہواؤں کا دم اکھڑتا ہے

گزر رہی ہے جو یارو بغیرِ حبِّ رسولؐ
وہ زندگی تو نہیں زندگی کا دھوکا ہے

انہیں ملے گی شفاعت ضرور محشر میں
وہ جن کو ذات پہ سرکارؐ کی بھروسا ہے

وہ واپسی کا سفر اشک بار آنکھوں سے
پلٹ پلٹ کے در مصطفیؐ کو دیکھا ہے

نبیؐ کے نعت نگاروں میں شکر ہے اعجازؔ
یہ کم نہیں ہے مرا نام بھی تو لکھا ہے