یہ ہی نہیں کہ خلد میں حقدار جائیں گے

یہ ہی نہیں کہ خلد میں حقدار جائیں گے
کہہ دیں گے جن کو بھی مرے سرکارؐ جائیں گے

ہم سوئے شہرِ سیدِؐ ابرار جائیں گے
اک بار وہ بلائیں گے سو بار جائیں گے

رحمت قدم قدم پہ ملے گی حضورؐ کی
جب لوگ انا کی توڑ کے دیوار جائیں گے

جلوؤں کا ہے ہجوم دیارِ رسولؐ میں
ہم ساتھ لے کے دیدۂ بیدار جائیں گے

جن کو در رسولؐ سے نسبت نہیں کوئی
جائیں گے ایسے لوگ تو بیکار جائیں گے

رب کا کرم ہوا تو دیار رسولؐ میں
جائیں گے اور ہم سے گنہگار جائیں گے

طیبہ سے خالی ہاتھ نہ آئیں گے لوٹ کر
ہم ساتھ لے کے جذبۂ ایثار جائیں گے

روشن جبیں ہے جن کی اطاعت کے نور سے
وہ آئینے کے سامنے سو بار جائیں گے

طیبہ میں دور ہوگی مقدر کی تیرگی
جو بھی ہیں روشنی کے طلب گار جائیں گے

کوئے نبیؐ کا قصد ہے لیکن یہ شرم ہے
کیا ساتھ لے کے مفلس و نادار جائیں گے

محشر میں کوئی کام کسی کے نہ آئے گا
جنت میں لے کے سیدِ ابرارؐ جائیں گے

اعجازؔ ہم ازل سے ہیں خادم حضورؐ کے
جب بھی ہمیں بلائیں گے سرکارؐ، جائیں گے