اللہ نے دیے ہیں اسباب زندگی کے

اللہ نے دیے ہیں اسباب زندگی کے
سرکارؐ نے سکھائے آداب زندگی کے

ذات رسول اکرمؐ اگر مہرباں نہ ہوتی
پورے کبھی نہ ہوتے یہ خواب زندگی کے

ہو جائے اب تو بارش رحمت کی میرے آقاؐ
صحرا پڑے ہیں کب سے بے آب زندگی کے

ڈھارس تو آپؐ ہی کے اقوال سے ہے ورنہ
سارے بچھڑ گئے ہیں احباب زندگی کے

تسکین جاں بنے گی یاد رسولؐ اکرم
جس روز بند ہوں کے سب باب زندگی کے

پھر اے ہوائے طیبہ جاں بخش کوئی جھونکا
ہونے کو ہیں شکستہ اعصاب زندگی کے

وہ تو یہ کہیے قسمت لے آئی ان کے در تک
قصے کسے سناتا بے تاب زندگی کے

تعلیمِ مصطفیؐ سے ذہنوں میں ہیں اجالے
روشن ہیں تیرگی میں مہتاب زندگی کے

رحمت اگر نہ ہوتی سرکارِؐ دو جہاں کی
موسم کبھی نہ ہوتے شاداب زندگی کے

تاریخ میں نہیں ے جن کا جواب کوئی
آقاؐ کے فیصلے ہیں نایاب زندگی کے

تم نعتِ مصطفیؐ تو اعجاز پڑھ کے دیکھو
بن جائے گے سمندر تالاب زندگی کے