جز شاہؐ اُمم ناز کے قابل نہیں کوئی

جز شاہؐ اُمم ناز کے قابل نہیں کوئی
ذرّے تو بہت ہیں مہِ کامل نہیں کوئی

مخلوق میں سرکارؐ سے قابل نہیں کوئی
دنیا میں ابو جہل سا جاہل نہیں کوئی

یہ چاند ، یہ سورج ، یہ ستارے ، یہ مناظر
اس نقشِ کفِ پا کے مقابل نہیں کوئی

یہ بات الگ ہے کہ عمل ہم نہیں کرتے
سرکارؐ کے رستے میں تو مشکل نہیں کوئی

وہ ناؤ کہ رخ جس کا نہیں سوئے مدینہ
اس ناؤ کی تقدیر میں ساحل نہیں کوئی

جو روک لے دیونۂ دربار نبیؐ کو
ایسی تو زمانے میں سلال نہیں کوئی

دامانِ نبیؐ چھوڑ کے یہ حال ہوا ہے
آج اپنے سوا اور مقابل نہیں کوئی

جب چاہو عمل سیرت سرکارؐ پہ کرلو
اس راہ میں دیوار تو حائل نہیں کوئی

یہ کس کے لیے محفل کونین سجی ہے
آقاؐ کے سوا رونقِ محفل نہیں کوئی

یہ کوچۂ رحمت ہے مدینے کی زمیں ہے
ظالم نہیں کوئی یہاں قاتل نہیں کوئی

نسبت جسے سرکارؐ دو عالم سے نہیں ہے
اعجازؔ اس انسان کی منزل نہیں کوئی