سیرت پہ مصطفیؐ کی جب بھی عمل کیا ہے

سیرت پہ مصطفیؐ کی جب بھی عمل کیا ہے
آب حیات میں نے دریافت کر لیا ہے

یہ آپؐ کی نوازش محبوبِ کبریا ہے
دنیا کی نعمتوں سے دامن بھرا ہوا ہے

یہ کائنات ساری صدقہ حضورؐ کا ہے
یہ بات مومنوں سے قرآن کہہ رہا ہے

دربار تو بہت سے دنیا میں اور بھی ہیں
دربار مصطفیؐ پھر دربارِ مصطفیؐ ہے

مانگی دعا جو رب سے پڑھ کردرود میں نے
طوفاں زدہ سفینہ ساحل پہ آگیا ہے

رسم و رواجِ دنیا اس کو نہ چھو سکیں گے
حبِّ نبیؐ کا جس نے اک جام پی لیا ہے

کردی مرے خدا نے مجھ پر کرم کی بارش
جب بھی زباں سے میں نے صلِّ علیٰ کہا ہے

تیرے کرم نے یا رب غربت کی لاج رکھ لی
اک بے نوا مسافر طیبہ تک آگیا ہے

میں تو شہہِ اُممؐ کی رحمت کے سائے میں ہوں
خورشیدِ روزِ محشر کیوں مجھ کو ڈھونڈتا ہے

چلنے کی اس کی جانب زحمت کرے تو کوئی
بابِ دیارِ رحمت ہر دم کھلا ہوا ہے

کیسے ادا کرے وہ اللہ کا شکر تیرا
اعزازِ نعت گوئی اعجازؔ کو ملا ہے