ہے ولادت کا موسم دعا مانگ لو

ہے ولادت کا موسم دعا مانگ لو
مانگ لو رحمتِ مصطفیؐ مانگ لو

رب کے محبوبؐ کا نقشِ پا مانگ لو
مستقل خلد کا راستا مانگ لو

جسم مفلوج ہے روح بیمار ہے
آ گیا ہے مسیحا شفا مانگ لو

زندگی کی بہاریں جو درکار ہیں
باغِ طیبہ کی آب و ہوا مانگ لو

ظلمتوں کا فسوں توڑنا ہے اگر
اسوۂ مصطفیؐ سے ضیا مانگ لو

ان کے صدقے میں سب کچھ ملے گا تمہیں
جتنا چاہو طلب سے سوا مانگ لو

اک تعلق جسے جسمِ اطہر سے ہے
نکہت و نور کی وہ قبا مانگ لو

دیدۂ و دل کی آسودگی کے لیے
روشنیٔ چراغِ حرا مانگ لو

دربدر کیوں بھٹکتے ہو طیبہ چلو
مصطفیؐ سے ملو اور خدا مانگ لو

کوئی موسم بھی ہو دل بہل جائے گا
کوچۂ مصطفیؐ کی فضا مانگ لو

علم کے شہر میں آگئے ہو تو پھر
تم بھی اعجازؔ فکرِ رسا مانگ لو