ظلمتوں سے جب انسان گھبرا گئے

ظلمتوں سے جب انسان گھبرا گئے
روشنی لے کے خیرالوریٰؐ آ گئے

رہنما بن گئے آپؐ کے نقشِ پا
جتنے گمراہ تھے راستا پا گئے

بوئے گل ہاتھ ملتی ہوئی رہ گئی
وہ پسینے سے دنیا کو مہکا گئے

جتنے کانٹے تھے نفرت کے سب چن لیے
دشمنوں پر بھی وہ پھول برسا گئے

آ گئی کام تعلیمِ خیر البشرؐ
بے جِلا آئینے تھے جِلا پا گئے

اے جنونِ مدینہ تیرا شکریہ
چلتے پھرتے مدینے میں ہم آگئے

ساتھ جبریلؑ کچھ درو تک تو چلے
عرش تک میرے سرکارؐ تنہا گئے

لب پہ بے ساختہ جب درود آگیا
حادثے میری راہوں سے کترا گئے

کوئی موسم ہمیں راس آتا نہیں
ہم مدینے سے اللہ کیا آگئے

ربِّ سلم کی سن کے صدا حشر میں
عاصیوں نے کہا مصطفیؐ آ گئے

پاس میرے تو اعجازؔ کچھ بھی نہ تھا
نعت کے چند اشعار کام آگئے