حکمِ شہہِؐ اُمم کے مطابق بسر کریں

حکمِ شہہِؐ اُمم کے مطابق بسر کریں
نا معتبر حیات کو ہم معتبر کریں

دشمن کی بھی خطاؤں کو صرفِ نظر کریں
محبوبِؐ کبریا کی طرح در گزر کریں

سچائی کا نہیں ہے کوئی اور راستا
جب بھی چلیں حضورؐ کی جانب سفر کریں

اللہ کے نبیؐ سے ہے جب دل کا رابطہ
بادِ صبا کو کس لیے ہم نامہ بر کریں

روشن ہے جو چراغ عمل سے حضورؐ کے
ہم بھی اسی چراغ سے کسبِ ہنر کریں

اوجھل نہ ہوں نظر سے شریعت کے دائرے
ہو زیرِ پا زمیں کہ خلا میں سفر کریں

پہنچے گی بات اسوۂ خیر الانامؐ تک
دریافت ارتقائے بشر کو اگر کریں

نسبت ہے جس کو سرورِؐ عالم کے نور سے
روشن اسی چراغ سے ہم اپنا گھر کریں

لکھ دیں قلم سے اسمِ گرامی حضورؐ کا
تفسیرِ کائنات اگر مختصر کریں

طیبہ میں ہر قدم رہے لازم ادب کا ہوش
قصدِ درِ رسولؐ نہ آشفتہ سر کریں

پُر نور بام و در رہیں ذکرِ رسولؐ سے
اعجازؔ اس طرح شبِ غم کی سحر کریں