اخلاق سے، خلوص سے سرکار آپؐ نے

اخلاق سے، خلوص سے سرکار آپؐ نے
ظلم و ستم کی توڑ دی تلوار آپؐ نے

سچائی کو بنایا تھا معیار آپؐ نے
جمنے دیا نہ جھوٹ کا بازار آپؐ نے

دے کر اصول سیدِ ابرار آپؐ نے
انسان کو بنا دیا خودار آپؐ نے

جھکتے ہیں جس کے سامنے دنیا کے بادشاہ
بخشی ہے خادموں کو وہ دستار آپؐ نے

حیران آسماں پہ فرشتے ہیں آج تک
انسان کو دیا ہے وہ کردار آپؐ نے

ظلمت نہ روک پائے گی انساں کا راستا
آسان کر دی منزلِ دشوار آپؐ نے

ظلم و ستم کی، جبر کی، نفرت کی، بغض کی
باقی نہ رہنے دی کوئی دیوار آپؐ نے

عیسیٰؑ نفس نہیں کوئی سرکار آپؐ سا
اچھے کیے ہیں روح کے بیمار آپؐ نے

جاتا ہے جو مدینے سے خلدِ نعیم تک
وہ راستا دکھایا ہے سرکارؐ آپؐ نے

لرزاں ہے جن کے نام سے سیلاب کفر کا
ایسے دیے جلائے ہیں سرکار آپؐ نے

اس دائرے میں صرف اک اعجازؔ ہی نہیں
اوروں پر بھی کرم کیے سرکار آپؐ نے