ہونٹوں پہ مرے آج اس انساں کی ثنا ہے

ہونٹوں پہ مرے آج اس انساں کی ثنا ہے
اللہ کی مخلوق میں جو سب سے بڑا ہے

جو کچھ ہمیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے
سرکارِ دو عالم کے توسل سے ملا ہے

یہ رب کا کرم سرورؐ عالم کی عطا ہے
جسموں پہ ہمارے جو تمدن کی قبا ہے

جینے کا قرینہ ہمیں مرنے کا سلیقہ
سرکارِؐ دو عالم کے اصولوں سے ملا ہے

تلوار کو روکا ہے تبسم کے عمل سے
کانٹوں کا جواب آپؐ نے پھولوں سے دیا ہے

اس پھول کی خوشبو سے معطر ہیں فضائی
وہ پھول جو گلزار مدینہ میں کھلا ہے

غرقاب کیے اس نے جہالت کے سفینے
وہ علم کا سیلاب حرا سے جو چلا ہے

قائم ہے ابھی تک شبِ اسریٰ کا تسلسل
انسان کے قدموں میں ستاروں کی ردا ہے

مجھ جیسے گناہگار پہ یہ چشمِ عنایت
قطرے کو یہ اعزاز سمندر سے ملا ہے

محشر میں کوئی شافعٔ محشرِؐ کو بتا دے
رحمت کو گنہگار کوئی ڈھونڈ رہا ہے

سورج مری شہرت کا بجھا ہے نہ بجھے گا
اعجازؔ مرے ساتھ مدینے کی ہوا ہے