چھٹیں تاریکیاں، جاگا مقدر نوعِ انساں کا

چھٹیں تاریکیاں، جاگا مقدر نوعِ انساں کا
حرا کی اوٹ سے جس وقت خورشیدِ حرا جھانکا

بڑا اعزاز پایا ہے نبیؐ کے پائے اقدس سے
بلندی پر مقدر آج تک ہے کوہِ فاراں کا

ذرا وسعت تو دیکھو رحمتِؐ عالم کے دامن کی
محیطِ بزمِ امکاں صرف اک گوشہ ہے داماں کا

بنامِ مصطفیؐ روشن کیا ہے ربِّ اکبر نے
اجالا کم نہیں ہوتا چراغِ بزمِ امکاں کا

اگر رحمت نہ ہو ان کی دو عالم خاک ہو جائیں
یہ اک زندہ حقیقت ہے بدن محتاج ہے جاں کا

محبت واقعی رکھتے ہیں جو محبوبؐ داور سے
ثبوت اپنے عمل سے پیش کرتے ہیں وہ ایماں کا

مشامِ جاں معطر ہو گئی جنت کی خوشبو سے
چھڑا ہے تذکرہ جب بھی مدینے کے گلستاں کا

دربارِ مصطفیؐ میں ہوش کے درکار ہیں درہم
یہاں سکہ نہیں چلتا جنونِ فتنہ ساماں کا

بہ آسانی گزر جائیں گے ساری مشکلوں سے ہم
سرِ محشر جو ہاتھ آجائے گوشہ ان کے داماں کا

بروزِ حشر ان کے سامنے کس منہ سے جاؤں گا
وہ پوچھیں گے سبب کیا ہے مرے حالِ پریشاں کا

مقابل نقشِ پائے مصطفیؐ اعجازؔ اگر رکھ دوں
ابھی چہرہ دھواں ہو جائے خورشیدِ درخشاں کا