نعت کی فکر مصطفیؐ سے ملی

نعت کی فکر مصطفیؐ سے ملی
داد لیکن مجھے خدا سے ملی

مہر و ماہ و نجوم کی منزل
مصطفیؐ کے نقوشِ پا سے ملی

راہِ خلد بریں زمانے کو
کوئے محبوبِؐ کبریاں سے ملی

لب پہ جب مصطفیؐ کا نام آیا
رستگاری ہر اک بلا سے ملی

آپؐ آئے تو آدمی کو نجات
ظلم سے، جور سے، جفا سے ملی

رکھ لیا دل پہ مصطفیؐ لکھ کر
جب نہ راحت کسی دوا سے ملی

علم و دانش کے سب چراغوں کو
روشنی کوئے مصطفیؐ سے ملی

خاک ہو جاتی وادیٔ طائف
زندگی آپ کی دعا سے ملی

گل کو خیرات رنگ و نکہت کی
میرے سرکارؐ کی قبا سے ملی

آپ نے لاج حشر میں رکھ لی
رستگاری ہمیں سزا سے ملی

ذکر کس کس کا کیجیے اعجازؔ
ہر ہدایت شہہِؐ ہدیٰ سے ملی