چھوڑ دی میں نے دنیا کو ہر جستجو

چھوڑ دی میں نے دنیا کی ہر جستجو
ہے درِ مصطفیؐ کی مگر جستجو

میرا دل جستجو ہے نظر جستجو
گھر سے نکلا ہوں میں اوڑھ کر جستجو

ہے مدینے کی دل میں اگر جستجو
معتبر ہے سفر معتبر جستجو

مجھ کو بھی خاکِ پا اس کی مطلوب ہے
جس کی کرتے ہیں شمس و قمر جستجو

گم دیارِ نبیؐ کے تصور میں ہوں
کر رہی ہے مسلسل سفر جستجو

جز مدینہ مری کوئی منزل نہیں
لے چلی ہے مجھے تو کدھر جستجو

مفلسی بے بسی بے کسی کب تلک
ڈھونڈ ہی لے گی آقاؐ کا در جستجو

صرف تصدیقِ شق القمر کے لیے
لے گئی عقل کو چاند پر جستجو

دولتِ عشقِ سرکارؐ سے ہوں غنی
میں کہ رکھتا ہوں زادِ سفر جستجو

ہے تعلق اگر ذاتِ سرکارؐ سے
ختم ہوتی نہیں عمر بھر جستجو

میرے سر میں ہے سودائے خیرالبشرؐ
میں تو اعجاز ہوں سربسر جستجو