آشنائے نبیؐ لوگ جب ہو گئے

آشنائے نبیؐ لوگ جب ہو گئے
زندگی کے طلب گار سب ہو گئے

ذکرِ خیرالوریٰؐ کے سبب ہو گئے
کتنے آباد شہرِ طرب ہو گئے

کر گئی کام تعلیمِ خیر البشرؐ
بے ادب آشنائے ادب ہو گئے

وحشیوں کو لباسِ تمدن دیا
محترم ان کے نام نسب ہو گئے

چند آنسو جو یاد نبیؐ میں گرے
کامرانی کا میری سبب ہوگئے

جب تصور میں شہرِ نبیؐ آ گیا
خوبصورت مرے روز و شب ہو گئے

جب زباں پر محمدؐ کا نام آ گیا
لب سے پیوستہ آپس میں لب ہو گئے

ہو نہ پائی خبر جذبۂ شوق میں
ہم روانہ مدینے کو کب ہو گئے

لطفِ سرکارؐ سے جھولیاں بھر گئیں
جو طلب گار تھے بے طلب ہوگئے

جامِ کوثر کی خواہش جو رکھتے نہیں
وہ گرفتارِ بنتِ انب ہو گئے

یہ بھی اعجازؔ اعجاز ہے علم کا
میرے سرکارؐ اُمی لقب ہو گئے