میں نعت پڑھ رہا ہوں محمدؐ کی شان میں

میں نعت پڑھ رہا ہوں محمدؐ کی شان میں
لوگو! درود پڑتے رہو درمیان میں

ہے کون جس کی ذات پہ پڑھتے ہیں ہم درود
شامل ہے کس کا اسم گرامی اذان میں

محسوس یہ دیارِ نبیؐ میں ہوا مجھے
جیسے پہنچ گیا ہوں میں دارالامان میں

اوصافِ مصطفیؐ کا ادا حق جو کر سکے
طاقت کہاں ہے اتنی کسی کی زبان میں

انسان کا خدا سے نہ ٹوٹے گا رابطہ
خیرالبشرؐ کی ذات جو ہے درمیان میں

لوٹ آیا مصطفیؐ کے اشارے پہ آفتاب
آتا نہیں ہے تیر پلٹ کر کمان میں

نسبت ہے جس کو ذاتِ رسالت مآبؐ سے
ہوتے ہیں کامیاب وہ ہر امتحان میں

کیا کیا اذیتوں سے تھی دو چار زندگی
دیکھا درِ رسولؐ تو جان آئی جان میں

اللہ بھی نثار ہے، بندے بھی ہیں فدا
ایسی بھی ایک ذات ہے دونوں جہان میں

انداز منفرد ہے، تکلّم بھی لاجواب
کرتے ہیں گفتگو وہ خدا کی زبان میں

اعجازؔ اس کے پاس نہ آئے گی تیرگی
روشن دیا درود کا ہو جس مکان میں