زندگی تھی پریشان راحت ملی

زندگی تھی پریشان راحت ملی
اسوۂ مصطفیؐ کی بدولت ملی

مصطفیؐ نے جو پہنا لباسِ بشر
قدسیوں پر بشر کو فضیلت ملی

ہوگئیں زیست کی دور سب الجھنیں
جا کے طیبہ میں دل کو وہ راحت ملی

جتنے آنسو بہائے گہر بن گئے
’’ایک ایک اشک کی مجھ کو قیمت ملی‘‘

جب بھی ان کے توسل سے مانگی دعا
مجھ کو ہر چیز حسبِ ضرورت ملی

شکریہ مصطفیؐ کا ادا کیجیے
ہم نے قران پایا، شریعت ملی

وحشیوں کو سکھایا ادب آپؐ نے
آدمی بن گئے آدمیت ملی

بولہب اور بوجہل کو کیا ملا
جن کو ملنی تھی ان کو ہدایت ملی

رہنماؤں کے وہ رہنما بن گئے
جن کو شاہِ اُممؐ کی قیادت ملی

حشر میں مصطفیؐ نے بھرم رکھ لیا
میں گناہگار تھا مجھ کو جنت ملی

یہ بھی اعجازؔ ہے صدقۂ مصطفیؐ
اچھی صورت ملی، اچھی سیرت ملی