الفاظ ختم ہو گئے عاجز قلم تمام

الفاظ ختم ہو گئے عاجز قلم تمام
لیکن ہوئی نہ مدحتِ شاہِؐ امم تمام

جس دن سے رہنما ہوئی سیرت رسولؐ کی
ایسی خوشی ملی کہ ہوئے سارے غم تمام

اس بات پر حبیبؐ خدا میں خودی نہیں
حیرت سے تھے خموش بتانِ حرم تمام

اللہ کے رسول سے نسبت ہمیں بھی ہے
ہیں جس قدر وسیلے وہ رکھتے ہیں ہم تمام

دہلیزِ مصطفیؐ کی طرف جب کیا سفر
خورشید بن گئے مرے نقشِ قدم تمام

تھے آدمی تو پہلے بھی انساں مگر نہ تھے
نسبت سے مصطفیؐ کی ہوئے محترم تمام

میرا یقیں نہیں ہے تو قرآں سے پوچھ لو
اوصاف مصطفیؐ کے ہیں اس میں رقم تمام

محتاجِ بیش و کم نہیں اسلام کے اصول
انجام دے گئے ہیں وہ کارِ اہم تمام

سایہ فگن اگر نہ ہو رحمت رسولؐ کی
ہو جائے کائنات خدا کی قسم تمام

نزدیک ان کے آئے گی کیا سر پھری ہوا
پُر نور آج بھی ہیں چراغ حرم تمام

اعجازؔ نعت گوئی کا اعجاز دیکھیے
ہوتا نہیں تسلسلِ ابرِ کرم تمام