نہ بجھ سکے گی مری تشنگی سمندر سے

نہ بجھ سکے گی مری تشنگی سمندر سے
سلگ رہا ہے مسلسل وجود اندر سے

برس رہا ہے مسلسل جو دیدۂ تر سے
دُعا کرو کہ یہ بادل نہ اب کبھی برسے

لگی ہے پاؤں سے جب سے زمین صحرا کی
برائے نام بھی نسبت نہیں مجھے گھر سے

میں اپنے شہر کے ماحول میں سلگتا رہا
صدا اُٹھی کسی محراب سے نہ منبر سے

بدل رہا ہوں بہت زاویئے نگاہوں کے
مگر وہ شخص کہ ہٹتا نہیں ہے منظر سے

دیئے ہیں زخم جو اُس نے کسی پہ کھل نہ سکیں
چھپا لیا ہے بدن کو دکھوں کی چادر سے

ترے خلوص کے دامن میں ایسے موتی ہیں
سوال کرتے ہیں آنسو مرے سمندر سے

نہیں ہے کوئی تعلق انہیں اُجالوں سے
دیئے جلاتے نہیں جو ہواؤں کے ڈر سے

یہ کس دیار میں اعجازؔ آگئے ہیں قدم
یہاں تو روز گزرتے ہیں لوگ محشر سے