کوئی جگنو نہ کوئی مشعل ہے

کوئی جگنو نہ کوئی مشعل ہے
رقص میں روشنی مسلسل ہے

کچھ لہو اور ہے ابھی درکار
اس کی تصویر نامکمل ہے

مستقل آسمانِ خواہش پر
جو برستا نہیں وہ بادل ہے

اس کے صحرا میں آگئے ہیں قدم
آج کار جنوں معطل ہے

زندگی کا کوئی بھی نام سہی
اک تماشا مگر مسلسل ہے

اعتماد اس ہوا کا مت کرنا
اس گلی کی ہوا بھی پاگل ہے

کوئی بچ کر گزر نہیں سکتا
عشق رسوائیوں کی دلدل ہے

ہر شکن کہہ رہی ہے ماتھے کی
جسم زخمی ہے روح بوجھل ہے

سارے اس کے ہی رنگ ہیں اعجازؔ
یہ دھنک ہے کہ اس کا آنچل ہے