ٹھوکریں کھانا ہر اک گام سنبھلتے رہنا

ٹھوکریں کھانا ہر اک گام سنبھلتے رہنا
عمر بھر کام مسافر کا ہے چلتے رہنا

دے گیا ہے کوئی پیغام یہ جاتے جاتے
دھوپ تو دھوپ ہے سائے میں بھی جلتے رہنا

ایک دن خود کوئی تصویر اُبھر آئے گی
روز احساس کا آئینہ بدلتے رہنا

صبح کی ایک ہی دستک سے یہ بجھ جائیں گے
رات بھر کام چراغوں کا ہے جلتے رہنا

کاٹ دیتی ہے بس ایک ذرا سی لغزش
زندگی نام ہے تلوار پہ چلتے رہنا

سرخرو ہونے کی بس ایک یہی صورت ہے
اپنے چہرے پہ لہو اپنا ہی ملتے رہنا

رکھنا دیوارِ تمنا پہ اُمیدوں کے چراغ
زندگی بھر یوں ہی خوابوں سے بہلتے رہنا

مشغلہ اب تو یہی ہے ترے دیوانے کا
دیکھنا خواب تیرے اور بہلتے رہنا

کوئی گزرا ہوا لمحہ نہیں آتا واپس
عمر کا کام تو اعجازؔ ہے ڈھلتے رہنا