کس کی خاطر ہمک رہی ہے ہوا

کس کی خاطر ہمک رہی ہے ہوا
شام ہی سے سنک رہی ہوا

شہرِ جاں میں ہے حبس کا موسم
ساتھ میرے سسک رہی ہے ہوا

جل رہے ہیں چراغ زخموں کے
اور حیرت سے تک رہی ہے ہوا

یہ علامت ہے اس کے کوچے کی
ہر قدم پر بہک رہی ہے ہوا

کیا کسی گل بدن کو چھو آئی
اس قدر کیوں مہک رہی ہے ہوا

اس کی خوشبو کے ہے تعاقب میں
قریہ قریہ بھٹک رہی ہے ہوا

میرے گھر کا چراغ جل نہ سکا
مہرباں جب تلک رہی ہے ہوا

اہل شہرت زمیں کا رزق ہوئے
کس کی زیرِ فلک رہی ہے ہوا

میرے سوزِ نفس کا ہے اعجازؔ
مثلِ شعلہ بھڑک رہی ہے ہوا