میری آنکھوں میں خواب ہیں کس کے

میری آنکھوں میں خواب ہیں کس کے
کون لایا ہے پھول نرگِس کے

ہم بجھائیں گے پیاس صحرا کی
آبلے کہہ رہے ہیں رِس رِس کے

کوئی اہلِ جنون بتائے گا
کیا ہیں آداب اس کی مجلس کے

ایک تو آپ کو شکایت ہے
اور الزام ہیں یہ کس کس کے

جل اُٹھیں گے وہ جب بھی آئے گا
منتظر یہ چراغ ہیں جس کے

حد بھی ہے عرضِ مدعا کی کوئی
رہ گئی ہے مری زباں گھس کے

اس سے جب گفتگو میں کرتا ہوں
وہ یہی پوچھتا ہے قبل اس کے؟

جینا چاہو جو اس زمانے میں
آئینے توڑ ڈالئے حس کے

اُڑ گئے یوں ہنر کے رنگ اعجازؔ
ہاتھ خالی ہوں جیسے مفلس کے