ہیں گھر کے در و بام تماشائی میں چپ ہوں

ہیں گھر کے در و بام تماشائی میں چپ ہوں
گویا ہے چراغِ شبِ تنہائی میں چپ ہوں

ہر شخص سمجھتا ہے کہ میں بول رہا ہوں
حالاں کہ سرِ شہرِ شناسائی میں چپ ہوں

حیرت میں ہے اس بات پہ زنداں کا نگہباں
زنجیر ہے محو سخن آرائی میں چپ ہوں

یہ شہر ہے بہروں کا یہاں کون سنے گا
جس دن سے میسر ہوئی گویائی میں چپ ہوں

دیوار سے سورج نہیں اُترا کئی دن سے
ہے مجھ سے سوالی مری انگنائی میں چپ ہوں

اظہارِ محبت کی نہیں مجھ کو ضرورت
خود بول اٹھے گی مری رسوائی میں چپ ہوں

مجھ سے کبھی توہین تمنا نہیں ہوگی
اُکساتی ہے حالات کی انگڑائی میں چپ ہوں

بول اُٹھا جو میں مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا
اچھائی ہے جب تک مری اچھائی میں چپ ہوں

اعجازؔ یہی شہر ہے کیا شہرِ نگاراں
سب دیکھ رہے ہیں مری پسپائی میں چپ ہوں