یہ گل نہیں ہوں گے یہ فضا بھی نہیں ہوگی

یہ گل نہیں ہوں گے یہ فضا بھی نہیں ہوگی
جو آج ہوا ہے وہ ہوا بھی نہیں ہوگی

دشوار سفر لاکھ سہی دشتِ طلب کا
محسوس مگر لغزشِ پا بھی نہیں ہوگی

سو جاؤں اک روز تھکن اُوڑھ کے میں بھی
اک دن ترے ہونٹوں پہ دُعا بھی نہیں ہوگی

میں سر کو ہتھیلی پہ لیے کب سے کھڑا ہوں
اُمید نہ تھی تجھ سے جفا بھی نہیں ہوگی

احوال رہا گر یہی جسموں کی تپش کا
ملبوسِ بدن کوئی قبا بھی نہیں ہوگی

نکلے نہ گواہی کے لیے لوگ جو گھر سے
پھر تو کسی مجرم کو سزا بھی نہیں ہوگی

!ہوں گے نہ اُمیدوں کے ہرے پیڑ تو لوگو
سائے کی کسی سر پہ ردا بھی نہیں ہوگی

زنداں میں جو سو جائے گا احساسِ اسیری
زنجیر کے ہونٹوں پہ صدا بھی نہیں ہوگی

اعجازؔ کے ہونٹوں پہ تبسم ہی رہے گا
ماتھے پہ شکن اس کے ذرا بھی نہیں ہوگی