اس سے نسبت ہے پرانی میری

اس سے نسبت ہے پرانی میری
چاند رکھتا ہے نشانی میری

پھیل جائے تو دو عالم پہ محیط
ورنہ ایک لفظ کہانی میری

ایک ہجرت کا یہ خمیازہ ہے
مستقل نقل مکانی میری

اس کے صرف ایک تبسم کے لیے
ہوگئی خاک جوانی میری

میں سرابوں کے تعاقب میں رہا
راہ تکتا رہا پانی میری

میرے دشمن سے نہ منسوب کرو
میرا کردار کہانی میری

ہوگیا سر سے سبک دوش مگر
کم نہ ہو پائی گرانی میری

میرے بچے ہوئے بالغ جب سے
لوٹ آئی ہے جوانی میری

میں نے اعجازؔ بہت سمجھایا
دل نے اک بات نہ مانی میری