حادثہ جب بھی کوئی رہ گزر میں ہوگا

حادثہ جب بھی کوئی رہ گزر میں ہوگا
قافلہ اہل محبت کا سفر میں ہوگا

غم کے طوفاں کا گزر، کیا مرے گھر میں ہوگا
لمس اک شخص کا دیوار میں در میں ہوگا

جب وہ آئے گا تو اُمیدِ کرم بھی ہوگی
دھوپ نکلے گی تو سایہ بھی شجر میں ہوگا

گردشِ وقت ٹھہر جائے گی ٹھہروں گا جو میں
میں چلوں گا تو یہ سورج بھی سفر میں ہوگا

کیا خبر تھی کہ چراغوں کو بجھا دے گی ہوا
یہ بھی اندھیر اُجالوں کے نگر میں ہوگا

آگ میں نے ہی لگائی ہے خود اپنے گھر کو
!با ہنر مجھ سے کوئی شہرِ ہنر میں ہوگا

روح کا کرب جو پڑھ لے گا مرے چہرے پر
دیدہ ور بھی کوئی اربابِ نظر میں ہوگا

میں نے سینچا ہے درختوں کو لہو سے اپنے
ذائقہ میرے لہو کا بھی ثمر میں ہوگا

ماند پڑ جائیں گے اعجازؔ ستاروں کے چراغ
اشک ایک ایسا میرے دیدۂ تر میں ہوگا