ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں

ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
دیا جلا کے سرِ شام چھوڑ آیا ہوں

کوئی چراغ سرِ رہ گزر نہیں نہ سہی
میں نقشِ پا تو بہر گام چھوڑ آیا ہوں

ہوائے دشت و بیاباں تو مجھ سے ہے برہم
میں اپنے گھر، در و بام چھوڑ آیا ہوں

کبھی نصیب ہو فرصت تو اُس کو پڑھ لینا
وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں

ابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہوں گے
میں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوں

یہ کم نہیں ہے وضاحت مری اسیری کی
پروں کے رنگ تہہِ دام چھوڑ آیا ہوں

وہاں سے ایک قدم بھی نہ بڑھ سکی آگے
جہاں میں گردشِ ایّام چھوڑ آیا ہوں

مرے خلوص پہ الزام جس نے رکھے تھے
اُسی کے سر میں وہ الزام چھوڑ آیا ہوں

مجھے جو ڈھونڈنا چاہئے وہ ڈھونڈ لے اعجازؔ
کہ اب میں کوچۂ گمنام چھوڑ آیا ہوں