جس دن سے اس نے رسمِ دل آزار توڑ دی

جس دن سے اس نے رسمِ دل آزار توڑ دی
میں نے بھی اختلاف کی دیوار توڑ دی

میں نے دیا اُمید کا بجھنے نہیں دیا
اس نے قسم جو کھائی وہ سو بار توڑ دی

اب سوچتا ہوں شہر کے حالات دیکھ کر
زنجیر میں نے پاؤں کی بے کار توڑ دی

باہر نکل سکا نہ حصار انا سے میں
حائل جو راہ میں تھی وہ دیوار توڑ دی

دیکھا گیا نہ مجھ سے جب انصاف کا لہو
میں نے بھی بندشِ لب اظہار توڑ دی

دشمن نے جب شکست کو تسلیم کر لیا
میں نے خود اپنے ہاتھ سے تلوار توڑ دی

لڑتا رہا چراغ کی صورت ہواؤں سے
اک چارہ گر نے ہمتِ بیمار توڑ دی

گہوارۂ جمال کو مقتل بنا دیا
وحشت نے رسمِ کوچہ و بازار توڑ دی

اعجازؔ اب دُعا کا ہے درپیش مسئلہ
گھبرا کے ناخدا نے بھی پتوار توڑ دی