فطرت کے تقاضوں سے مبرا تو نہیں ہوں

فطرت کے تقاضوں سے مبرا تو نہیں ہوں
انسان ہوں میں کوئی فرشتہ تو نہیں ہوں

سیراب کیا ہے مرے اشکوں کو زمیں نے
میں ابر کی صورت کبھی برسا تو نہیں ہوں

کیوں دیکھ رہا ہے مجھے حیرت سے زمانہ
اک میں ہی سرِ شہرِ تمنا تو نہیں ہوں

رہتا ہے ہمہ وقت ہجومِ غمِ دوراں
اک بھیڑ مرے ساتھ ہے تنہا تو نہیں ہوں

وہ دیکھنا چاہے تو مجھے دیکھ لے آکر
دنیا مجھے دیکھے میں تماشا تو نہیں ہوں

ایسا تو نہیں، عیب نہ ہو مجھ میں کوئی بھی
اچھا ہوں مگر اتنا بھی اچھا تو نہیں ہوں

ایک عمر سے سورج کے مقابل میں کھڑا ہوں
جو دھوپ سے جل جائے وہ سایہ تو نہیں ہوں

اُوڑھے ہوئے زخموں کی ردا ہوں میں بدن پر
میں ذات میں گلزار ہوں صحرا تو نہیں ہوں

اعجازؔ ازل سے میں مسلسل ہوں سفر میں
اب تک کسی موڑ پہ ٹھہرا تو نہیں ہوں