شہر میں اس کے رنگ ہیں کیا کیا منظر کے پس منظر کے

شہر میں اس کے رنگ ہیں کیا کیا منظر کے پس منظر کے
سڑکیں ساری شیشے کی ہیں لوگ ہیں سارے پتھر کے

روشن ہیں جن سے یہ دریچے میری سوچ کا سورج ہے
یہ جو اُفق سے تابہ اُفق ہیں رنگ ہیں میرے اندر کے

ساحل پر یا ریت ملے گی یا پاؤ گے خالی سیپ
ڈوب کے دیکھو کھل جائیں گے سارے بھید سمندر کے

وادیٔ گل سے دشت جنوں تک ایک ہی رنگ ہے موسم کا
اک تیشہ فرہاد کا ہے کچھ فن پارے ہیں آزر کے

لوگ مسلسل جاگ رہے ہیں آہٹ پر ہیں سب کے کان
سارا گھر آسیب زدہ ہے اندیشوں سے باہر کے

میرا دشمن کوئی نہیں ہے میں خود اپنا دشمن ہوں
وہ خنجر ہے میرا خنجر زد میں ہوں جس خنجر کے

سوچ رہا ہوں توبہ میری کیسے بچ کے گزرے گی
میخانے میں پھیل گئے ہیں ٹکڑے میرے ساغر کے

کس کو اپنے زخم دکھاؤں کس پر میں الزام دھروں
ہارے ہوئے جتنے ہیں سپاہی سب ہیں میرے لشکر کے

دشت طلب میں کوئی شجر ہے اور نہ سائبان کوئی
کب سے ہم اعجازؔ کھڑے ہیں سائے میں دھوپ کی چادر کے