میری زندگی کٹی ہے شب و روز پیش وپس میں

میری زندگی کٹی ہے شب و روز پیش وپس میں
نہ گرفت میں اُجالا نہ چراغ دسترس میں

میں اسیر ہوں انا کا نہ نکل سکوں گا باہر
کہ کوئی بھی در نہیں ہے میری ذات کے قفس میں

مری زندگی وفا ہے مری زندگی محبت
تری زندگی میں شامل ہیں قدم قدم پہ رسمیں

یہ امیرِ شہر ہے میں اسے خوب جانتا ہوں
مرا خون پی رہا ہے یہ ملا کے سوم رس میں

یہ مرے لہو کے چھینٹے کبھی رائیگاں نہ ہوں گے
مرا تذکرہ رہے گا مرے بعد بھی قفس میں

تو جدا ہوا جہاں سے اسی موڑ پر کھڑا ہوں
تجھے یاد تو نہ ہوں گی کبھی کھائی تھیں جو قسمیں

سرِ منزل طلب بھی کوئی نیند کا ہے شاکی
تھکن اُوڑھ کر ہے سویا کوئی سایۂ جرس میں

یہ ترا حسین پیکر ترا نام تیری خوشبو
مری دھڑکنوں میں شامل ہے نہاں نفس نفس میں

مرے ناصحِ مکرم ہیں عجیب شخص اعجازؔ
کبھی زعمِ پارسائی کبھی مبتلا ہوس میں