راستے راستا نہیں دیتے

راستے راستا نہیں دیتے
لو اگر نقشِ پا نہیں دیتے

بے خلش ہوگئی خلش جب سے
زخمِ دل بھی مزا نہیں دیتے

عدل کرتے ہیں خوب منصف بھی
مجرموں کو سزا نہیں دیتے

آگ نفرت کی پھیلتی ہی نہیں
دوست جب تک ہوا نہیں دیتے

ہم فقیروں کے بھی اصول ہیں کچھ
سب کے در پر صدا نہیں دیتے

گھر کے جلنے کا جن سے خطرہ ہو
وہ دیئے کیوں بجھا نہیں دیتے

غم کے ماروں کو زہر دیتے ہیں
اب مسیحا دوا نہیں دیتے

جب سے بدلا قلندروں کا مزاج
مفت وہ بھی دُعا نہیں دیتے

قتل ہوتا ہوں روز میں اعجازؔ
وہ مجھے خوں بہا نہیں دیتے