جذبات کو شرمندۂ اظہار نہ کرنا

جذبات کو شرمندۂ اظہار نہ کرنا
اے دل کبھی توہین غمِ یار نہ کرنا

کر لینا ہر ایک طنز کو ہنس ہنس کے گوارا
دشمن کو بھی رسوا سرِ بازار نہ کرنا

وعدے پہ کوئی آنے نہ پائے شبِ ہجراں
ایسا بھی غضب وقت کی رفتار نہ کرنا

صحرا میں بھی تصویر نظر آئے گی گھر کی
وحشت میں طوافِ در و دیوار نہ کرنا

ہے اپنے مسائل میں گرفتار زمانہ
اس عہد میں ذکرِ لب و رخسار نہ کرنا

کچھ اور اُلجھ جائیں گے حالات کے گیسو
دنیا سے کبھی درد کا اظہار نہ کرنا

اقرارِ محبت کا تقاضا تو یہی ہے
انکار کے موسم میں بھی انکار نہ کرنا

ہر شخص کو ملتی نہیں احساس کی دولت
برباد یہ سرمایۂ افکار نہ کرنا

اعجازؔ بتاتی ہے یہ تاریخ ہماری
ہارے ہوئے دشمن پہ کبھی وار نہ کرنا