بجھ نہ جائے کہیں دل درد کی پروائی سے

بجھ نہ جائے کہیں دل درد کی پروائی سے
لو لگالی ہے چراغِ شبِ تنہائی سے

جب سے اُترا ہے تیری یاد کا سورج گھر میں
دھوپ رخصت نہیں ہوتی مری انگنائی سے

شوق دیدار کا انجام یہی ہونا تھا
آج آنکھیں میری محروم ہیں بینائی سے

ہر قدم وقت کی رفتار پہ رکھتا ہوں نظر
خوب واقف ہوں میں حالات کی انگڑائی سے

آرہی ہے مرے گلزار میں کانٹوں پہ بہار
گل پشیماں ہیں بہاروں کی پذیرائی سے

کون ہے کس کو میں احوال سناؤں اپنا
کوئی واقف نہیں احساس کی گہرائی سے

ہم نے اک عمر گزاری ہے سرِ شہر ستم
آشنا ہم ہیں مذاقِ ستم آرائی سے

میرے چھالوں کا سواگت نہ کیا پھولوں نے
صرف کانٹوں نے نوازا ہے پذیرائی سے

پاؤں پڑجاتی ہے احساس کی زنجیر اعجازؔ
جاؤں تو جاؤں کہاں شہرِ شناسائی سے