اس کا تو غم نہیں کہ مرے خواب جل گئے

اس کا تو غم نہیں کہ مرے خواب جل گئے
اندر کی آگ سے مرے اعصاب جل گئے

جب بھی فصیلِ شب پہ مرے عزم کے چراغ
روشن ہوئے تو انجم و ماہتاب جل گئے

ترتیب دی تھی اس نے کتابِ وفا مگر
جس جس میں میرا ذکر تھا وہ باب جل گئے

دیکھا تھا مسکرا کے کسی نے مری طرف
بس اتنی بات پر مرے احباب جل گئے

دیوار میکدے کی زمیں بوس ہوگئی
توبہ سے میری ساغرِ شب تاب جل گئے

کام آگیا لہو مرا ظلمت میں ناخدا
کتنے چراغ بر سرِ سیلاب جل گئے

اپنے وطن میں آج غریب الوطن ہوں میں
منزل تک آتے آتے سب اسباب جل گئے

اعجازؔ میرے اشکِ ندامت تو دیکھئے
اک بوند ہی گری تھی کہ تالاب جل گئے