خشک ہواؤں کے چلنے سے موسم میں تبدیلی ہے

خشک ہواؤں کے چلنے سے موسم میں تبدیلی ہے
خون سے جس کو سینچا تھا وہ مٹی اب تک گیلی ہے

رنگ برنگے پھول کھلے ہیں پائے طلب کے چھالوں سے
ورنہ زمین شہرِ نگاراں بنجر ہے، پتھریلی ہے

دینے کو تو دے سکتا ہے اس کا جواب اک آنسو بھی
بات جو اس نے چھیڑی ہے وہ بات ذرا تفصیلی ہے

پوچھنا ہے تو ساحل سے احوال سمندر کا پوچھو
کتنی موجیں جذب ہوئی ہیں ریت جو اب تک گیلی ہے

شعلہ صفت ہے اس کا تبسم اس کی نوازش اک دھوکا
پھول سے اس کے ہونٹ ہیں لیکن بات بڑی زہریلی ہے

آئے ہو اس وقت کہاں سے کیا گزری ہے کچھ تو کہو
کاجل پھیلا پھیلا سا ہے رنگت پیلی پیلی ہے

رنگ لہو لائے گا اک دن مظلوموں، مجبوروں کا
ظالم، قاتل موج اُڑا لیں رسی جب تک ڈھیلی ہے

توبہ توبہ میری توبہ جاؤں جو اب میخانے میں
توڑ کے میں نے جام و سبو کو ان آنکھوں سے پی لی ہے

درد کا قصہ، غم کا فسانہ کوئی نہیں سنتا اعجازؔ
چھیل چھبیلے لوگوں کی یہ دنیا رنگ رنگیلی ہے