یادوں کی جو رخصت چھاؤں ہوئی من مندر کی انگنائی سے

یادوں کی جو رخصت چھاؤں ہوئی من مندر کی انگنائی سے
آنکھوں کے سمندر خشک ہوئے لب روٹھ گئے گویائی سے

یہ امن و سکوں کے دشمن ہیں، رہبر تو نہیں یہ رہزن ہیں
یہ جھوٹ کے سب بیوپاری ہیں واقف ہی نہیں سچائی سے

انمول ستارے اشکوں کے پلکوں پہ سجائے بیٹھا ہوں
اُبھرے گا اُمیدوں کا سورج دیوارِ شبِ تنہائی سے

خوشبو نے جو دستک دی آکر قفلِ درِ زنداں ٹوٹ گیا
زنجیر ہوئی ٹکڑے ٹکڑے اک وحشت کی انگڑائی سے

ہر گام پہ مشکل ہوتی ہے ہر گام پہ کانٹے ہوتے ہیں
یہ اہل وفا کی منزل ہے منسوب شکستہ پائی سے

دیوانے تو دیوانے ہیں اک موجِ شہرِ نگاراں سے
اربابِ خرد بھی ہاتھ اپنے دھو بیٹھے ہیں دانائی سے

اس دورِ ہوس کے سورج نے اعجازؔ بڑا اندھیرا کیا
معیار تھی جن کی دیدہ وری محروم ہوئے بینائی سے