خورشید کی دستک سے جو بیدار نہ ہوگی

خورشید کی دستک سے جو بیدار نہ ہوگی
وہ آنکھ اُجالے کی سزاوار نہ ہوگی

جب تک کہ نہ ٹوٹے گا طلسمِ شبِ عشرت
سوئی ہوئی بستی کبھی بیدار نہ ہوگی

زخموں کے گلابوں سے سجا دی ہیں دکانیں
اب سرد کبھی گرمئی بازار نہ ہوگی

قفلِ درِ زنداں تو اُسی روز کھلے گا
جس دن میری زنجیر میں جھنکار نہ ہوگی

جب تک ہے تری یاد کا رشتہ مرے دل سے
اس راہ میں حائل کوئی دیوانہ نہ ہوگی

اس دُور کو کس نام سے منسوب کرو گے
جب سر پہ کسی شخص کے دستار نہ ہوگی

ہارے ہوئے دشمن سے ملاقات کروں گا
جس وقت مرے ہاتھ میں تلوار نہ ہوگی

اعجازؔ مرا جذبۂ منزل نہ تھکے گا
کم آبلہ پائی سے بھی رفتار نہ ہوگی