مستقل اپنے رب سے خوشی ما نگ لے

مستقل اپنے رب سے خوشی مانگ لے
انؐ کے دربار کی حاضری مانگ لے

ہے مدینہ یہاں آگہی مانگ لے
گم اندھیرے میں ہے روشنی مانگ لے

موت کا تذکرہ زیب دیتا نہیں
مرنے والے یہاں زندگی مانگ لے

کیوں درِ مصطفیؐ پر تذبذت میں ہے
تجھ کو سب کچھ ملے گا ابھی مانگ لے

کیا ضرورت کہیں دور جانے کی ہے
ان کے دربار کی نوکری مانگ لے

عظمتیں تیری تقدیر ہو جائیں گی
خاکِ نعلینِ پائے نبیؐ مانگ لے

دو قدم چل کے سوئے درِ مصطفیؐ
عمر بھر کی سلامت روی مانگ لے

تجھ کو کم ظریفوں کا ہے احساس اگر
بحرِ رحمت سے دریا دلی مانگ لے

فیض پاتے ہیں اپنے پرائے سبھی
مصطفیؐ کا کرم کوئی بھی مانگ لے

پھر بھٹکنے کا امکاں نہ ہوگا کبھی
راستا مل گیا راستی مانگ لے

کل کا اعجازؔ کوئی بھروسہ نہیں
ان سے رب کا کرم آج ہی مانگ لے