زندگی چاہیے تو مدینے چلو

زندگی چاہیے تو مدینے چلو
روشنی چاہیے تو مدینے چلو

جس کے صدقے بہاریں ہیں فردوس کی
وہ گلی چاہیے تو مدینے چلو

دولتِ دین و دنیا ملے گی وہاں
خسروی چاہیے تو مدینے چلو

دو جہاں کی خوشی جس سے منسوب ہے
وہ خوشی چاہیے تو مدینے چلو

ہیں زمانے کے حالات بگڑے ہوئے
بہتری چاہیے تو مدینے چلو

جذبۂ درگزر علم و اخلاق سے
آگہی چاہیے تو مدینے چلو

خلد جیسا سکوں زندگی میں تمہیں
واقعی چاہیے تو مدینے چلو

حشر میں بخششوں کی ضمانت تمہیں
گر ابھی چاہیے تو مدینے چلو

تم کو اعجازؔ ملکِ سخن کی اگر
سروری چاہیے تو مدینے چلو