غیر بھی اپنے بن جاتے تھے سیرت ہی کچھ ایسی تھی

غیر بھی اپنے بن جاتے تھے سیرت ہی کچھ ایسی تھی
میرے آقاؐ شاہِ امم کی عادت ہی کچھ ایسی تھی

آپؐ سے پہلے خیر کا موسم لوگوں نے دیکھا ہی نہ تھا
دنیا میں دنیا والوں کی حالت ہی کچھ ایسی تھی

ایک نظر جس نے بھی دیکھا سو جاں سے قربان ہوا
سچ تو یہ محبوبِؐ خدا کی صورت ہی کچھ ایسی تھی

نقشِ کفِ پا آپؐ کے ٹھہرے زینت عرشِ معظم کی
آپؐ کے قدموں سے وابستہ عظمت ہی کچھ ایسی تھی

دیکھ کے منظر روضے کا ہم دنیا کے غم بھول گئے
گنبدِ خضرا کے سائے میں راحت ہی کچھ ایسی تھی

تاجوروں کے تاج نظر آتے تھے آپؐ کے قدموں میں
سرورِؐ عالم آپ کی شان و شوکت ہی کچھ ایسی تھی

دوست ہو یا ہو دشمن کوئی سب پہ کرم فرماتے تھے
آپ کی دنیا کے لوگوں پر شفقت ہی کچھ ایسی تھی

جب میں مدینے پہنچا مجھ کو قدم قدم انعام ملے
حال پہ میرے سرورِؐ دیں کی رحمت ہی کچھ ایسی تھی

عرش کی جانب شاہِؐ اُمم نے قصدِ سفر جب فرمایا
حیرت میں جبریلِ امیںؑ تھے رفعت ہی کچھ ایسی تھی

سن کے جسے اعجازؔ فرشتے جھوم رہے تھے محفل میں
میرے لبوں پر شاہِؐ اُمم کی مدحت ہی کچھ ایسی تھی