صحنِ حرم میں جنت کے گلزار کی خوشبو آتی ہے

صحنِ حرم میں جنت کے گلزار کی خوشبو آتی ہے
ذکر جہاں سرکارؐ کا ہو سرکارؐ کی خوشبو آتی ہے

زندہ ہو احساس اگر قاری کا تو وہ محسوس کرے
آج تلک قرآں سے شہہِ ابرارؐ کی خوشبو آتی ہے

جوشِ جنوں اب رخصت ہوجا آگے ہوش کی ہے منزل
مجھ کو رسولؐ اکرم کے دربار کی خوشبو آتی ہے

قول و عمل کی سچائی کی اور کوئی تمثیل نہیں
میرے نبیؐ کی باتوں سے کردار کی خوشبو آتی ہے

آپ اگر والیل پڑھیں، والشمس پڑھیں، والفجر پڑھیں
شاہِؐ امم کے گیسو کی، رخسار کی خوشبو آتی ہے

اک دستک پر کھل جاتے ہیں بند دریچے ذہنوں کے
کام ہمارے آقاؐ کے افکار کی خوشبو آتی ہے

شاہِ اُمم کے چاہنے والے رکھتے ہیں پہچان الگ
جسم سے ان دیوانوں کے سرکارؐ کی خوشبو آتی ہے

دین ہے ایسی ایک عمارت جس میں ہم سب رہتے ہیں
دین کے گوشے گوشے سے معمار کی خوشبو آتی ہے

ذکرِ نبیؐ سے جگمگ جگمگ یہ گھر کس کا ہے اعجازؔ
مجھ کو یہاں طیبہ کے در و دیوار کی خوشبو آتی ہے