مدحت کے میں دیپ جلاتا رہتا ہوں

مدحت کے میں دیپ جلاتا رہتا ہوں
جشنِ شہہِ ابرارؐ مناتا رہتا ہوں

ان کے کرم کی بات سناتا رہتا ہوں
قصرِ ستم میں آگ لگاتا رہتا ہوں

نعتِ نبیؐ کے پھول کھلاتا رہتا ہوں
صحرا کو گلزار بناتا رہتا ہوں

شہرِ نبیؐ کے خواب دکھائی دیتے ہیں
میں تو مدینے روز ہی جاتا رہتا ہوں

کھل جاتے ہیں بند دیچے ذہنوں کے
اقوالِ سرکارؐ سناتا رہتا ہوں

صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ پڑھ کر
نفرت کی دیوار گراتا رہتا ہوں

کام میرے سرکارؐ کی سیرت آتی ہے
دشمن سے میں ہاتھ ملتا رہتا ہوں

لکھ لکھ کر میں اسمِ گرامی اور درود
گھر کے در و دیوار سجاتا رہتا ہوں

مشکل کے موسم میں اکثر لوگوں کو
طائف کی تاریخ سناتا رہتا ہوں

وردِ زباں اعجازؔ مرے رہتا ہے درود
سوئے ہوئے میں بھاگ جگاتا رہتا ہوں