آدمی کو غم و آلام سے فرصت دے دی

آدمی کو غم و آلام سے فرصت دے دی
آپؐ نے علم کی، عرفان کی دولت دے دی

خشک مزدور کے ماتھے کا پسینہ نہ ہوا
اس سے پہلے مرے سرکارؐ نے اجرت دے دی

آپؐ نے روک دیا مشغلۂ جور و ستم
آپؐ نے دھوپ میں سائے کی ضمانت دے دی

آپؐ نے عقل کے اندھوں کو عطا کی آنکھیں
نور آنکھوں کو دیا، دل کو بصیرت دے دی

دور ذہنوں سے کیا آپ نے سرکارؐ ابہام
حشر تک کے لیے قرآن سی نعمت دے دی

جاہلوں کو دیا تہذیب و تمدن کا لباس
آپؐ نے اپنے غلاموں کو حکومت دے دی

آپؐ نے صحرا نوردوں پہ کیا خاص کرم
جتنے بے گھر تھے انہیں آپ نے جنت دے دی

تنگ دستوں کو غنی آپ کی نسبت نے کیا
کوئی صورت نہ تھی جن کی انہیں صورت دے دی

علم کی کنجی سے ذہنوں کے دریچے کھولے
گونگے بہروں کو بھی گویائی کی طاقت دے دی

یہ بھی اعجاز ہے اللہ تعالیٰ کا کرم
مجھ کو توفیقِ ثنا حسبِ ضرورت دے دی