میرے عمل ہیں وجہِ ندامت آپ سے میں شرمند ہوں

میرے عمل ہیں وجہِ ندامت آپؐ سے میں شرمند ہوں
آپؐ ہیں رحمت ، میں ہوں زحمت آپؐ سے میں شرمندہ ہوں

آپؐ نے ایک اک گام پہ میری راہنمائی فرمائی
میں ہی رہا معذورِ قیادت آپؐ سے میں شرمندہ ہوں

آپؐ کے قول تو آج بھی آقاؐ ذہن پہ دستک دیتے ہیں
بند ہے میرا باب سماعت آپؐ سے میں شرمندہ ہوں

میری خاطر آپ نے آقاؐ پتھر کھائے طائف میں
میرے لیے اور اتنی زحمت آپؐ سے میں شرمندہ ہوں

آپؐ کی تعلیمات پہ آقاؐ غور کبھی میں نے نہ کیا
مجھ کو ملی اتنی بھی نہ فرصت آپؐ سے میں شرمندہ ہوں

آپؐ نے اپنے حسنِ عمل سے دنیا کو تسخیر کیا
صرف زبانی میری عقیدت آپؐ سے میں شرمندہ ہوں

آپؐ نے انسانی رشتوں کا مجھ کو عطا فرمایا شعور
لیکن بدلی میری نہ فطرت آپؐ سے میں شرمندہ ہوں

آپؐ نے اس دنیا کو بنایا امن و سکوں کا گہوارہ
ہر دن ڈھائی میں نے قیامت آپؐ سے میں شرمندہ ہوں

قرآں جیسا لفظ نہیں ہے کوئی بھی میرے پاس اعجازؔ
کیسے کروں میں آپؐ کی مدحت آپؐ سے میں شرمندہ ہوں