میں غلام سرورِ انبیاءؐ مجھے اپنے کام سے کام ہے

میں غلام سرورِ انبیاءؐ مجھے اپنے کام سے کام ہے
کبھی لب پہ میرے درود ہے کبھی لب پہ میرے سلام ہے

وہ بشر کہ جس کی یہ عظمتیں بڑی حیرتوں کا مقام ہے
جہاں جبرئیلؑ کے پرجلیں وہ وہاں بھی محوِ خرام ہے

شبِ غم کو جس نے سحر کیا سوئے عرش جس نے سفر کیا
وہی شہ سوارِ براق ہے وہ ہی انبیاءؑ کا امام ہے

پئے زیست حسنِ عمل دیا کہ خوشی سے غم کو بدل دیا
یہ شعور کس نے عطا کیا یہ حلال ہے وہ حرام ہے

یہ متاعِ عشقِ شہہِؐ اُمم ہے نگاہ رب میں بھی محترم
جو درِ نبیؐ سے ہے منسلک اسی زندگی کو دوام ہے

نہ ہونا گوار ترا عمل دل مضطرب تو سنبھل کے چل
ہے یہاں ادب کا معاملہ یہ دیارِ شاہِؐ انام ہے

درِ مصطفیؐ پہ کھڑا ہوں میں تو بڑے بڑوں سے بڑا ہوں
ہے کمالِ نسبتِ مصطفیؐ کہ بلند میرا مقام ہے