ہمارے کام آخر اسوۂ خیرالبشرؐ آیا

ہمارے کام آخر اسوۂ خیرالبشرؐ آیا
اندھیرے میں چراغوں کو جلانے کا ہنر آیا

جمالِ گنبدِ خضرا سے جب روشن ہوئیں آنکھیں
ہمیں تو ہر طرف جنت کا منظر ہی نظر آیا

درِ اقدس پہ جو مانگو دعا مقبول ہوتی ہے
کوئی انسان ایسا ہے جو خالی لوٹ کر آیا

مری قسمت مدینے سے بلاوا آگیا مجھ کو
خدا کا شکر مجھ کو راس طیبہ کا سفر آیا

ہوئی کافور میری تشنگی دریائے رحمت سے
نظر کے سامنے جب ساقیِ کوثرٔ کا در آیا

وظیفہ کرلیا جب سے درودِ پاک کو میں نے
مرے تاریک گھر میں نور کا سیلاب در آیا

مدینے کا ہر اک ذرّہ مثالِ ماہ و اختر ہے
جدھر دیکھو ادھر اک نور کا دھارا نظر آیا

حضورؐ آئے تو رشکِ خلد دنیا ہوگئی ساری
زمیں پر نورِ رحمت آسمانوں سے اتر آیا

ہر اک دل کی تشّفی ہو گئی دریائے رحمت سے
کوئی نالہ بلب آیا کوئی باچشمِ تر آیا

یہی اعجازؔ ہے اعجاز تعلیمِ محمدؐ کا
سلیقہ زندگی کا امتیازِ خیر و شر آیا